حضرت ابراہیم ؑ اور نمرود

جب حضرت ابراہیم ؑ کو آگ میں پھینکا گیا تو اصل میں کہاں جا چکے تھے مسلمانوں کا لہو گرما دینے والی کہانی فرشتے مہوِ حیرت تھے ہوا میں فضا میں انگشت بدن داں اور پورا آسمان پلک جھپکنا بھول چکا تھا روزِ اول قرہ ارض پر کروڑوں انسان آئے کھایا پیا افزائش نسل کا حصہ بنے اور پیوند خاک ہوگئے چشم فلک عشق محبت کے ہزاروں مناظر دیکھ چکی لیکن عشق الٰہی تابع داری اور ثابت قدمی کا مظاہرہ جو آج دیکھ رہا تھا جو پہلی اور آخری بار دیکھ رہا تھا بت پرستوں کے پاس جب کوئی جواب نہیں رہا وہ بحث مناصرے کے جواب میں بُری طرح شکست کھا چکے تھے ان کے پاس کوئی قسم کی کوئی دلیل نہیں تھی ۔تو

انہوں نے وہی پرانا ظالمانہ طریقہ اپنایا جو ہر سرکش شکست کھانے کے بعد کھاتا ہے اس بار حق پر توحید پرست بندہ خدا اور خدائے بزرگ برتر کے عظیم عاشق حضرت ابراہیم ؑ کیلئے یہ سزا تجویز کی گئی کہ آپ کو آ۔گ کے آلہ میں پھینک دیا جائے بت پرستوں نے لکڑیاں جمع کرنا شروع کردیں حتیٰ کہ ان میں کوئی بیمار ہوتی کہ وہ نظر مانگتی کہ اگر وہ تندرست ہوگئیں تو حضرت ابراہیم ؑ کو جلانے کیلئے لکڑیاں اکٹھی کریں گی ۔پھر اس گھڑے لکڑیوں سے بھر دیا گیا اور آ۔گ لگادی گئی اس آ۔گ مسلسل کئی روز بہکایا گیا جب آگ خوب جل اُٹھی اُس کے شعلوں سے قرب وجوار کی اشیاء جھلسنے لگیں تو آپ کو آگ میں ڈالنے کی تیاری شروع کی گئیں ۔حضرت ابراہیم ؑ کو آگ میں ڈالنے کا پس منظر کیا تھا۔حضرت ابراہیم ؑ ایران کے قصبے کے باشندہ تھے آپ کی قوم بت پرستی کے سمندر میں غرق ہوچکی تھی آپ کے والد کا نام اظہر تھا

جو اپنے قوم کے مختلف قبائل کیلئے لکڑی کے بت بناتا اور فروخت کرتا رب کائنات نے شروع سے ہی حضرت ابراہیم ؑ کو بصیرت اور رشد وہدایت عطا فرمائی تھی وہ بھی بچپن سے یہ دیکھتے آرہے تھے کہ ان کا باپ مورتیوں کو ہاتھوں سے بناتا ہے جس طرح چاہتا آنکھ کان ناک تراشتا ہے تو یہ خدا کیسے ہوسکتے ہیں انہی سوالات نے آپ کو تلاش حق کی طرف لگایا تو آپ نے سب سے پہلے اپنے باپ اظہر کو دعوت اسلام دی باپ پر آپ کی دعوت کا کوئی اثر نہ ہوا بلکہ باپ نے کہا اگر تم باز نہ تو میں تمہیں سنگسا ر کردوں گا جب حضرت ابراہیم ؑ نے دیکھا کہ اگر آپ بت پرستی سے بازنہیں آتے تو میں آپ سے آج سے جدا ہوتا ہوں لیکن میں خدا سے آپ کی مغفرت کی دعا کرتا رہوں گا۔

باپ سے جدا ہوکر حضرت ابراہیم ؑ نے دعوت حق کیلئے پوری دنیا سے رابطہ کیا مگر قوم باپ دادا کی بت پرستی کسی بھی صورت چھوڑنے کیلئے تیار نہ تھی اور دعوت حق کے سامنے اپنے باطل معبودوں کے حق میں گونگے بہرے بن گئے تو حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے قوم کی اس لاحق کیلئے اعلان کیا میں تمہارے بتوں کو دشمن جانتا ہوں اور اعلان جنگ کرتا ہوں یہ میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے میرا پروردگار تو وہی خدا ہے جس نے مجھے پیدا کیا اور رزق صحت اور ہدایت دی جب آپ کی دعوت حق کاقوم پر اثر نہ ہوا توایک بار جب آپ کی قوم سالانہ جشن یا میلے کیلئے شہر سے باہر گئی

تو آپ فوری طور بتوں کی طرف گئے بتوں کے پاس بہت خوبصورت لذیز کھانے پڑے ہوئے تھے آپ نے تنزاً بتوں سے کہا تم سے کھانے کھاتے کیوں نہیں ۔پھر ہتھوڑے سے بتوں کو توڑنا شروع کردیا جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس نے انہیں ٹکرے ٹکرے کردیا اور پھر ہتھوڑا بڑے بت کے کندھے پر رکھ دیا ۔ کہ بڑے بت نے غصے میں آکر چھوٹے بتوں کو توڑ دیا ہے جب لوگ واپس آئے تو اپنے چھوٹے معبودوں کی یہ حالت دیکھ کر غضبناک ہوگئے اور تمام لوگ ایک ہی جگہ جمع ہوگئے اور حضرت ابراہیم ؑ کو بلایا گیا اور کہا ہمارے خداؤں کیساتھ یہ سب کچھ تم نے کیا تو حضرت ابراہیم ؑ بولے میں نہیں بلکہ اس بڑے بت نے یہ کام کیا ہے ۔

تو اگر یہ بت بولتے ہیں تو ان سے ہی پوچھ لوکہ کس نے انکے ٹکرے کیے ہیں حضرت ابراہیم ؑ اپنی قوم کو یہ احساس دلانا چاہتے تھے کہ ان جھوٹے خداؤں کو بولنا نہیں آتے یہ تمام لکڑی پتھر کے بے جان ٹکڑے ہیں جو اپنی حفاظت بھی خود نہیں کرسکتے ۔قوم ابراہیم ؑ آپ کے دلائل کے سامنے بے بس اور لاچار ہوگئے لیکن ابلیس کی روش رکھنے والی قوم نے ڈھٹائی سے کام لیا اور ایک دوسرے سے کہنے لگے تواگر دیوتاکی خوشنودی چاہتے ہو تو اس کو گستاخی کی سزا کے طور پر دہکتی آگ میں جلا ڈالو تاکہ تبلیغ کا قصہ ہی تمام ہوجائے ۔اسی دوران یہ باتیں بادشاہِ وقت تک بھی پہنچ گئیں

اس زمانہ میں عراق کا بادشاہ نمرود تھا اور رعایا بادشاہ کو رب کا درجہ دیتی تھی ۔بادشاہ نے حکم دیا کہ حضرت ابراہیم ؑ کو اس کے دربار میں پیش کیا جائے جب حضرت ابراہیم ؑ کو دربار میں لے جایا گیا تو بادشاہ نے کہا کہ باپ دادا کے دین کی مخالفت کیوں کرتا ہے اور مجھے رب ماننے سے انکار کیوں کرتا ہے تو حضرت ابراہیم ؑ نے فرمایا میں خدائے واحد کا پرستار ہوں اور لکڑی پتھر تراشیتا بت میرے لکڑی پتھر سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے اور نہ ہی تمہیں رب مانتا میں اس کو رب مانتا جو سورج کو مشرق سے نکالتا ہے اور مغرب لے جاتا ہے

اگر تم خدا ہو تو سورج مغرب سے نکال کر مشرق میں چھپا بادشاہ یہ سن کر بے بس اور لاجواب ہوگیا بادشاہ وقت نے دلائل اور براہین کی قوت کے مقابلے میں یہاں پر مساوی طاقت اور صدورت کا مظاہرہ کیا اور آپ کو سزا کے طور پرآگ میں ڈالنے کا فیصلہ شروع کیا ۔آگ کےشعلے بہت زیادہ بلند ہوگئے تو ابراہیم ؑ کو ایک منجلیک میں ڈال آگ میں ڈالا جانے لگا ۔جب ابراہیم ؑ کو باندھا جارہا تھا تو آپ کی زبان پر یہ الفاظ تھے کہ تیرے سوا کوئی معبود وبرحق نہیں اے تمام جہانوں کے پروردگار تو پاک ہے تیرے لیے ساری تعریف ہے تیرے لیے ساری بادشاہی ہے اور تیرا کوئی شریک نہیں اور پھینکا جانے لگا تو آپ کی زبان یہ کلمات تھے ہمیں اللہ کی کافی اور وہ ہی اچھا کارساز ہے

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے مروی کہ سرتاج الانبیاء نے فرمایا کہ جب ابراہیم ؑ کو آگ میں پھینکا گیا تو وہ ہوا میں تھے تو انہوں نے کہا کہ اے اللہ تو آسمان میں اکیلا اور میں زمین پر تیرا اکیلا عبادت گزار ہوں ۔تو حضرت جبرائیل ؑ آپ کے پاس آئے اور آپ سے کہا کیا آپ کو کوئی ضرورت ہے تو آپ نے کہا میرا رب بہتر جانتا ہے مجھے آپ سے کوئی کام نہیں حضرت ابراہیم ؑ کا یہ یقین اور خدا پر ایمان دیکھ کر خدا کی رحمت جوش میں آئی ۔حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ بارش کے فرشتے نے مجھے بارش برسانے کا حکم دیا جائے لیکن اس سے پہلے ہی اللہ کا حکم جاری ہوچکا تھا

حق باری تعالیٰ ہے کہ ہم نے فرما دیا کہ آگ تو ٹھنڈی ہوجا اور ابراہیم ؑ کیلئے سلامتی بن جا۔ حضرت کعب بیان کرتے اس روز زمین کے انسانوں میں سے کسی نے بھی آگ سے فائدہ نہ اُٹھایا آگ نے صرف حضرت ابراہیم ؑ کی وہ رسیاں ہی جلاد یں جن سے انہیں باندھا گیا تھا منہال بن عمر سے مروی ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ آگ میں چالیس یا پچاس دن تک رہے تھے اور فرمایا کہ جتنی خوشگوار زندگی میں ان دنوں میں گزاری ہے ان کے علاوہ کبھی نہیں گزاری کافروں نے حضرت ابراہیم ؑ سے بدلا لینا چاہا لیکن خود ذلیل ہوئے ۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ دنیا میں انہیں ناکامی اور ذلت نصیب ہوئی اور آخرت میں ایسی آگ میں پھینکا جائے گا جس میں نہ تو ٹھنڈک ہوگی اور نہ سلامتی ۔انہیں اس میں سلام بھی نہیں کیا جائے گا خدا پر پختہ یقین اور عشق کی وجہ خالق عرش وسماں نے جو مقام حضرت ابراہیم ؑ کو بخشی وہ کسی کو نہ بخشی ۔ حضرت ابراہیم ؑ کو اپنا دوست خلیل اللہ کہا اور خانہ کعبہ کی تعمیر آپ سے کرائی قربانی قیامت تک کیلئے لازمی قرار دی ۔حج کی شان سے نوازا اور سب سے بڑھ کر نبیوں کے سردار شہنشاہ دوعالم کو آپ کی اولاد میں سے پیدا کیا۔ شکری

About soban

Check Also

”زندگی میں اگر خوشی چاہیے تو تین با تیں اپنے ساتھ باندھ لو او ر غم کو ہمیشہ کے لیے نکال دو۔“

اچھی کتابیں اور سچے لوگ ہر کسی کو سمجھ نہیں آتے! دنیا میں کوئی نہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *