جہاں سے بال اتر گئے ہوں وہاں لہسن ہمارے بتائے طریقے سے لگائیں ، بالوں کے گچھوں کے گچھے اُگ آئیں گے.

جہاں سے بال اتر گئے ہوں وہاں لہسن ہمارے بتائے طریقے سے لگائیں ، بالوں کے گچھوں کے گچھے اُگ آئیں گے ۔۔۔اگر آپ اپنے بالوں کو گھنا بنانا چاہتے ہیں تو کوئی اور چیز استعمال کرنے کی بجائے لہسن کے ذریعے ایسا کریں کیونکہ اس کا کوئی سائیڈ افیکٹ بھی نہیں ہوگا۔ ایسی جگہیں جہاں سے سر کے بال اتر چکے ہوں یا جہاں وہ کم ہورہے ہوں پر لہسن کا رس لگانے سے بال تیزی سے اگنے لگتے ہیں۔تھوڑے سے لہسن

لے کر انہیں پیس کر ان کا رس نکال لیں اور اسے متاثرہ جگہ پرلگائیں۔یہ عمل ہفتے میں کم از کم دو بار کریں اور لگانے کے ایک گھنٹے بعد سر دھوئیں۔ایک مہینہ کے اندر ہی آپ واضح تبدیلی محسوس کریں گے اور متاثرہ

گجہ پر نئے بال نظر آنے لگیں گے روحانی طور پر تسکین اور صحت پانے کے لئے بہت سے مسلمان دعاوں اور دم پریقین رکھتے ہیں ۔اگر ایسے تمام مسلمان یہ دم کرنا سیکھ لیں تو اللہ کے حکم سے اس گھر میں کوئی بڑی بیماری نہیں آئے گی بلکہ جسمانی اور روحانی ا عتبار سے جہاں بیماریوں کا تدارک ہوگا وہاں سماجی بیماریوں یعنی بے روزگاری سے بھی نجات مل جائے گی ۔ احادیث مبارکہ میں یہ دم حضرت میمومنہؓ سے روایت کیا جاتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کسی بیمار کو یہ دم کیا کرتے تھے تو اسے شفا نصیب ہوتی تھی۔احادیث میں بیان کیا

جاتا ہے کہ حضرت میمونہؓ نے اپنے بیماربھانجے عبدالرحمن بن سائبؓ سے کہا’’ میں تمہیں رسول اللہ ﷺ والا دم نہ کروں؟ آپﷺ فرماتے تھے’’ بسم اللہ ارقیک واللہ یشفیک من کل داء فیک اذہب الباس رب الناس واشف انت الشافی لا شافی الاانت‘‘ یعنی ’’اللہ کے نام سے میں تمھیں دم کرتا ہوں، تمھاری ہر بیماری سے تم کو شفا دے گا۔لوگوں کے پروردگار تکلیف دور کر دے ،شفا دے دے ، تو ہی شفا کرنے والا ہے۔ تیرے علاوہ کوئی شفا دینے والا نہیں‘‘ ایک مسلمان کے لئے اس سے زیادہ باعث رحمت اور کون سی بات ہوسکتی ہے کہ وہ اپنی رومرہ ظاہری و باطنی بیماریوں کے لئے ایسی دعا سیکھ لے جس میں سکھ ہی سکھ ہے ۔ اسے در در نہ پھرنا پڑے۔ہر گھر میں جب تقویٰ اور پرہیز گاری موجود ہوگی تو یہ دعائیں ان کے لئے بہترین معالج ثابت ہوسکتی ہیں جن کا سنہ مبارکہ میں مفصل ذکر کیا گیا ہے۔

About soban

Check Also

”زندگی میں اگر خوشی چاہیے تو تین با تیں اپنے ساتھ باندھ لو او ر غم کو ہمیشہ کے لیے نکال دو۔“

اچھی کتابیں اور سچے لوگ ہر کسی کو سمجھ نہیں آتے! دنیا میں کوئی نہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *